ہم کس طرح کام کرتے ہیں

قومی سلامتی کو درپیش خطروں کے خلاف ہم متعدد مختلف ایجنسیوں اور اداروں کے ساتھہ رازدارانہ طریقے سے کام کرتے ہیں۔

ہمارے کام میںمندرجہ ذیل پر توجّہ دی جاتی ہے:

- مشتبہ افراد اور اداروں کی تفتیش اور خطروں کے تعلق سے خفیہ معلومات کا حصول، انہیں مرتّب کرنا اور ان کا تجزیہ کرنا اور پرکھنا۔ ایسا کرنے کے لیۓ ہمیںخفیہ معلومات کو اکٹھا کرنا اور مؤثر طریقے سے استعمال کرنا ہوتا ہے۔

- خطرات سے پیدا ہونے والے ذرائع کا مقابلہ کرنا۔ ایسی گواہیاں اکٹھی کرنا جو ہمیں مشتبہ افراد کو قانون کے کٹھرے تک پہنچانے کے قابل بناتی ہوں۔

- حکومت کو اوردوسرے اداروں کو خطروں سے آگاہ کرنے کے لیۓ اور مناسب جوابی کاروائ کے لیۓ مشورے دینا جس میں محفوظ رہنے کے لیۓ حفاظتی اقدامات شامل ہیں؛ اور

- خطروں کا مقابلہ کرنے کے لیۓ دیگر ایجنسیوں، اداروں اور حکومت کے محکموں کی مدد کرنا۔ ہم حکومت برطانیہ کی نیشنل انٹیلیجنس مشینری کے اجتماعی کام میں حصّہ لیتے ہیں اور برطانیہ اور بیرون ملک میں اور اداروں کے ساتھہ شراکت داری قائم کرتے ہیں۔

ہم خفیہ معلومات کیوں استعمال کرتے ہیں

اگرچہ کھلے عام دستیاب معلومات پس منظر جاننے کے لیۓ مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں، قومی سلامتی کے لیۓ خطروں کا باعث بننے والی تنظیموں اور افراد کے ارادوں اور سرگرمیوں کا پتہ لگانے کا بہترین طریقہ یہہ ہے کہ ان کی سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کیۓ جایئں۔ ان معلومات کو اکٹھا کرنے میں ہمیں کچھہ عرصہ لگتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہدف اداروں کے بارے میں تفصیلی معلومات  ، ان اداروں کی کلیدی شخصیتوں، ان کے بنیادی ڈھانچوں، ارادوں اور اہلیتوں کے بارے میں ہماری معلومات میں مزید اضافہ ہو۔

اگریہہخفیہ معلومات اس لائق ہیں کہ انہیں ریکارڈ کیا جاۓ تو ہم اس کام کو بالکل صحیح طریقے سے انجام دینے کا ذمّہ لیتے ہیں، اس کے حصول کے اصلی اور معتبرذریعہ کی واضع نشاندہی کے ساتھہ اور اس یقین کے ساتھہ کہ اسے مستعدی کے ساتھہ برآمد کیا جا سکے۔  اگر ہمیں اندازہ ہو کہ کسی خاص خطرے کی تفتیش کرنے کی ضرورت ہے تو مزید جاسوسی کے لیۓ وسائل بروۓ کار لاۓ جاتے ہیں۔ نئی خفیہ معلومات یا واقعات کی روشنی میں اپنے جانچ کے طریقوں میںضرورت کے مطابق مستقل تبدیلیاں لاتے رہتے ہیں۔

جانچ اور تفتیش کا یہہ عمل ہمیں اپنے جوابی اور حفاظتی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ قومی سلامتی کو درپیش خطروں کی سنگینی کے مطابق ان پر اپنے وسائل کے متناسب استعمال کے فیصلے کا دارومدار وزیر داخلہ کی رضامندی اور پارلیمنٹ کے جائزے پر منحصر کرتا ہے جو کہ خارجی طور پرکیا جاتا ہے۔  انٹیلیجنس کی قومی ضروریات کے مطابق ہم اپنی ترجیحات میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔  ان ترجیحات کا تعیّن حکومت کی طرف سے کیا جاتا ہے جسے جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی  (جے  آئ  سی ) مرتب کرتی ہے اور جن کی توثیق وزراء کرتے ہیں۔