بین الاقوامی دہشت گردی
حکومت برطانیہ کو دہشت گردی کا بالخصوص خطرہ القائدہ اور اس سے منسلک گروہوں سے ہے۔ ان کی ساری دنیا میں پہنچ، ان کی قابلیت، صلاحیت، مغالطہ آمیز استعدلال، ارادہ کی پختگی اوربنا بندش والی سرگرمیوں نے حالیہ خطرات کو ایسا مقام دیا ہے جس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔
القائدہ کو ان گروہوں کا تعاون حاصل ہے جنہوں نے خود اپنے ملکوں میں وہشتناک مہمیں چلائ ہیں۔ اس کے تعاون کرنے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو اسامہ بن لادن کی سیاسی اور مذہبی راۓ سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ امریکہ اور دوسرے مغربی مفادات پر حملے کرنے کے خواہشمند ہیں، اور ساتھہ ساتھہ ایسی حکومتوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جنہیں وہ بے دین سمجھتے ہیں۔
پہت ساری ایسی تنظیمیں بےقاعدگی سے چل رہی ہیں لیکن انتہا پسند خیالات اور تجربات کی بنا پر اور انقلابی تشہیرکے زیر اثردوسرے گروہوں کے ساتھہ انٹر نیٹ پر رابطے کی وجہہ سے وہ ایک دوسرے کے ساتھہ جڑے ہوۓ ہیں۔ القائدہ ان میں سے چند گروہوں کی رہنمائ کرتا ہے اورباقی دوسرے گروہ خود مختار ہیں۔ دونوں طرح کے گروہ دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔
دہشت گردوں کو اپنے کام کرنے کی امنگ ساری دنیا میں واضع طور پر پھیلاۓ ہوۓ بین الاقوامی شہرت یافتہ اشخاص، جیسے اسامہ بن لادن کے پیغاموں سے ملتی ہے۔ یہہ پیغام غیر مصالحانہ ہے اور باور کرتا ہے کہ مغرب اسلام کے لیۓ خطرہ ہے؛ مذہب کے ساتھہ وفاداری اور جمہوری ممالک اور اقدارات کے ساتھہ وفاداری دو متضاد چیزیں ہیں؛ اور یہہ کہ تشدد ہی اس کا معقول جواب ہے۔
11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں دہشت گردانہ حملوں نے یہہ مظاہرہ کیا کہ القائدہ چاہتی ہے کہ اس کے شدید ضرب پہنچانے والے حملوں کی گونج ساری دنیا کو سنائ دے کہ یہ بڑی تعداد کے شہریوں کو، کسی بھی پس منظر یا مذہب کی تفریق کیۓ بنا اپنے حصول کی آرزو کو مطمئین کرنے کے لیۓ، اپنا شکار بنا سکتی ہے؛ حملہ کرنے کے نئے ایجار کردہ طریقوں کو اپنا کر، جیسے آتش گیر ہتیاروں کی جگہ جہازوں کا استعمال کر کے۔
ستمبر 2001 سے القائدہ اور اس سے منسلک سینکڑوں دہشت گردوں کو حراست میں لیا گیا؛ دنیا بھر میں کئ بڑے دہشت گرد حملوں کوناکام بنایا گیا؛ القائدہ کو اس کے اہم اڈّے افغانستان سے بے گھر کیا گیا جہاں وہ ایک نظم وضبط کے ساتھہ دہشت گردوں کو بھرتی کرتی اور انہیں ٹریننگ دیتی، پلان بناتی اور حملوں کی تیّاریاں کرتی تھی۔
بہرحال القائدہ سے منسلک یا ان سےمتاثرگروہ اب بھی دہشت گردانہ حملوں کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یورپ میں 300 سے زیادہ افراد کوموت کے گھاٹ اتارا گیا اورمزید 3000 افراد ان دہشت گرد حملوں کی وجہہ سے زخمی ہوۓ جو یا تو القائدہ سے منسلک ہیں یا ان سے متاثر ہیں۔ اسامہ بن لادن اور اور دوسرے تربیت یافتہ دہشت گرد ابھی تک آزاد ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ابھی کچھہ عرصہ تک القاعدہ سے خطروں کا اندیشہ رہے گا۔
شمالی آئر لینڈ سے منسلک دہشت گردی
اگرچیکہ حالیہ برسوں میں شمالی آئرلینڈ سے منسلک خطرات بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں، چند آئرش ریپبلک گروہوں نے دہشت سے جڑی ہوئ سرگرمیوں کے ساتھہ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ان گروہوں نے تشدّد کو اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہےاور شمالی آئر لینڈ کی سیاسی کاروائیوں کی تشدّد آمیز وہشیانہ مخالفت کر کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا قصد کیا ہوا ہے۔
پرونشیل آئرش ریپبلکن آرمی ( پی ۔ آئ ۔ آر ۔ اے) نے جولائ 2005 میں ہتیاروں کے استعمال کو ختم کرنے کے لیۓ چلائ گئ رسمی مہم کے بعد سیاسی کاروایئوں میں روکاوٹ نہ کھڑی کرنے کا مظاہرہ کیا۔ ان کی شریک کار سیاسی جماعت شن فین شمالی آئر لینڈ کی سیاسی کاروایئوں میں حصّہ لے رہی ہے۔ 8 مئ 2007 کو شن فین تازہ تازہ بحال کی ہوئ شمالی آئر لینڈ ایکزیکیوٹیوکے ساتھہ شامل ہو گئ اور یونینسٹ سیاسی پارٹیوں کی طاقت میں حصّہ بٹایا۔
اہم لائلیسٹ پیرا ملٹری گروہوں نے ہتیار ڈال دینے کا اعلان کر دیا اور ایک خود مختار مانیٹرنگ کمیشن (آئ۔ام۔ سی) نے 8 اپریل 2007 کو رپورٹ دی کہ خاص لائلسٹ گروہوں کے اندرجرائم سے دور رہنےکے سلسلے میںنقل مکانی شروع ہو گئ ہے۔
دوسرے تشدّد پسند گروہ، جو شمالی آئر لینڈ کے حالات یا بین الاقوامی دہشت گردی سے تعلق نہیں رکھتے، تشدّد کی مہم سے شائد متاثر ہوں لیکن ان میں دہشت گردی کو آگے بڑھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔